Khutbatul Hajjatul Wida, commonly referred to as the Farewell Sermon, represents the final address given by the Prophet Muhammad (ﷺ) during his last pilgrimage (Hajj) in the year 10 AH (632 CE). This sermon is regarded as one of the most pivotal discourses in Islamic history, as it encapsulates the fundamental principles of Islam and offers enduring guidance for Muslims. It was delivered on the 9th of Dhul-Hijjah at Mount Arafat, in the presence of a vast assembly of followers.
1. Oneness of Allah (Tawheed):
The Prophet (ﷺ) underscored the necessity of worshipping Allah exclusively and warned against shirk (associating partners with Allah).
2. Rights and Responsibilities:
"أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا قَوْلِي، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا فِي مَوْقِفِي هَذَا. أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، وَكَحُرْمَةِ بَلَدِكُمْ هَذَا. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ. وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ بِهَا. وَإِنَّ الرِّبَا مَوْضُوعٌ، وَلَكِنْ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ. قَضَى اللَّهُ أَنْ لَا رِبَا، وَإِنَّ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ. وَإِنَّ دِمَاءَ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُهُ دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ. أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ مِنْ أَنْ يُعْبَدَ فِي أَرْضِكُمْ هَذِهِ أَبَدًا، وَلَكِنَّهُ إِنْ يُطَعْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ فَقَدْ رَضِيَ بِهِ مِمَّا تَحْقِرُونَ مِنْ أَعْمَالِكُمْ. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ. أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ لِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقًّا. لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، وَلَا يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ. فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَتَضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ. فَإِنِ انْتَهَيْنَ فَإِنَّ لَهُنَّ رِزْقَهُنَّ وَكِسْوَتَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ. وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا. وَإِنَّكُمْ إِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ. أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ فَلَنْ تَضِلُّوا أَبَدًا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ. أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مَا أَقَامَ فِيكُمْ كِتَابَ اللَّهِ. أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، كُلُّكُمْ لِآدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ. إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، لَيْسَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ فَضْلٌ إِلَّا بِالتَّقْوَى. أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ. قَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: اللَّهُمَّ فَاشْهَدْ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.Urdu Translation: "اے لوگو، میری بات سنو، مجھے نہیں معلوم شاید میں اس سال کے بعد اس جگہ تم سے پھر نہ مل سکوں۔ اے لوگو، تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر حرام ہیں جب تک کہ تم اپنے رب سے ملو، جس طرح آج کے دن کی حرمت ہے، اور جس طرح اس مہینے کی حرمت ہے، اور جس طرح اس شہر کی حرمت ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ، گواہ رہنا۔ اور جس کے پاس امانت ہو وہ اسے اس کے مالک کو واپس کر دے جس نے اسے امانت دی تھی۔ اور سود ختم کر دیا گیا ہے، لیکن تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ ہے، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی سود نہیں، اور عباس بن عبدالمطلب کا سارا سود ختم کر دیا گیا ہے۔ اور جاہلیت کے خون معاف کیے جاتے ہیں، اور سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے بیٹے کا خون ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے لوگو، شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ تمہاری اس زمین میں کبھی اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن اگر اس کی اطاعت اس کے علاوہ کسی اور چیز میں کی جائے تو وہ اس پر راضی ہو گیا ہے تمہارے ان اعمال سے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے لوگو، تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے، اور تمہارا ان پر حق ہے۔ تمہارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اور نہ ہی کوئی کھلی برائی کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم انہیں بستروں میں چھوڑ دو اور انہیں ہلکی مار مارو۔ اگر وہ باز آ جائیں تو ان کے لیے ان کا رزق اور لباس معروف طریقے سے ہے۔ اور عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرو، کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں، وہ اپنے لیے کسی چیز کی مالک نہیں ہیں۔ اور تم نے انہیں اللہ کی امانت سے لیا ہے، اور اللہ کے کلمات سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے لوگو، میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ، گواہ رہنا۔ اے لوگو، سنو اور اطاعت کرو اگر تم پر کوئی حبشی غلام بھی امیر بنایا جائے جب تک کہ وہ تمہارے درمیان اللہ کی کتاب قائم رکھے۔ اے لوگو، تمہارا رب ایک ہے، اور تمہارا باپ ایک ہے، تم سب آدم سے ہو اور آدم مٹی سے تھے۔ بے شک تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ سے۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ، گواہ رہنا۔ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ نے فرمایا: اے اللہ، گواہ رہنا، تین بار۔"Key Themes of Khutbatul Hajjatul Wida:
1. Oneness of Allah (Tawheed):The Prophet (ﷺ) underscored the necessity of worshipping Allah exclusively and warned against shirk (associating partners with Allah).
2. Rights and Responsibilities:
He articulated the rights of individuals, including those of women, slaves, and neighbors, emphasizing the need for justice and kindness in interactions.
3. Prohibition of Usury (Riba):
3. Prohibition of Usury (Riba):
The Prophet (ﷺ) pronounced the ban on usury, advocating for equitable economic practices.
4. Equality and Brotherhood:
4. Equality and Brotherhood:
He proclaimed the equality of all humans, irrespective of race, ethnicity, or social standing, asserting that the only measure of distinction is piety and virtuous actions.
5. Protection of Life, Wealth, and Honor:
5. Protection of Life, Wealth, and Honor:
The Prophet (ﷺ) affirmed the inviolability of human life, property, and honor, declaring them sacred.
6. Finality of Prophethood:
He asserted that he was the final prophet.
Comments
Post a Comment